5

جوبائیڈن جار جیاسے بھی کامیاب ٹرمپ12ہزار ووٹ زیادہ الیکٹول روٹوں کی تعداد306

Hits: 0

واشنگٹن (این این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے جارجیا اور مشی گن سمیت اہم ریاستوں میں الیکشن کے نتائج الٹنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے ری پبلکن اہلکاروں پر دبائو ڈالنا شروع کر دیا کہ نتائج کی توثیق کے عمل میں رکاوٹیں ڈالی جائیں۔ ریاست جارجیا میں ہاتھوں سے کی گئی گنتی میں بھی نومنتخب صدر جو بائیڈن ہی کو ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل ہے۔ دوسری جانب جو بائیڈن نے انتخابی عمل پر صدر ٹرمپ کی تنقید کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور ہولناک اقدام قرار دے دیا۔ دوسری جانب امریکہ کے صدارتی انتخابات 2020 ء کا آخری نتیجہ بھی آگیا ہے جس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن غیر سرکاری نتائج کے مطابق کامیاب قرار پائے۔ صرف  جارجیا سے نتیجے کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق الیکشن حکام نے جارجیا کے نتیجے کا اعلان کیا جس کے مطابق جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ کے مقابلے میں 12 ہزار زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔ جارجیا میں کامیابی کے بعد جو بائیڈن کے الیکٹورل ووٹوں میں مزید 16 ووٹ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کے الیکٹورل ووٹ کی کل تعداد 306 ہو گئی ہے جبکہ ان کے مد مقابل صدر ٹرمپ نے 232 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ۔ جارجیا کے انتخابی نتائج پر بھی انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں دعوی کیا ہے کہ جارجیا کی مختلف کائونٹیز میں ہزاروں ایسے ووٹ ملے ہیں جنہیں گنا نہیں گیا۔ ادھر جوبائیڈن نے صدر ٹرمپ کی جانب سے دھاندلی کے الزامات، انتخابات میں شکست تسلیم نہ کرنے اور انتقال اقتدار کے لیے ان سے تعاون نہ کرنے کے عمل کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ دریں اثناء امریکا کے نومنتخب صدر جو بائیڈن نے ٹرمپ انتظامیہ سے معلومات نہ ملنے کا شکوہ کردیا۔ غیرملکی خبررساں ادرے کے مطابق ایک بیان میں جوبائیڈن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شٹ ڈائون کا سامنا ہے، انہیں کرونا ویکسین کی مقدار کے بارے میں بتایا ہی نہیں جارہا۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت جو بظاہر جیتے اسے حکومتی ڈیٹا تک رسائی ملنی چاہیے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا ہار نہ ماننا کرونا کے خلاف اقدام کو تاخیرکا شکار بنا سکتا ہے۔

@media(min-width: 768px){ .oembed_ltr{ border: 1px solid #e0e0e0!important; width: 90%; padding: 10px 10px 10px 5px!important; display: block; margin: 0 auto; } .oembed_image{ width: 100px; float:right; margin-left: 10px; } .oembed_image .top-center{ height:100px; } .oembed_title{ min-height: 100px; display: block; align-items: center; max-height: 100px; overflow: hidden; } .oembed_title a{ font-size: 20px; line-height: 52px; color:#222; overflow: hidden; padding-right: 10px; } } .top-center { background-position: center top !important; background-size: cover !important; } @media(max-width: 768px){ .oembed_ltr{ border: 1px solid #e0e0e0!important; display: block; align-items: center; width: 100%; padding: 10px 10px 10px 5px!important; } .oembed_image{ width: 90px;float:right;margin-left: 10px; } .oembed_image .top-center{ height: 84px; } .oembed_title{ align-items: center;max-height: 84px;overflow: hidden;min-height: 84px; } .oembed_title a{ font-size: 18px; line-height: 46px; color:#222; overflow: hidden; padding-right: 10px; } }

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں