5

منفی پرا پیگنڈا سے  پاکستان کے اسلامی ممالک سے تعلقات غیرمستحکم نہیں ہو سکتے: طاہر اشرفی

Hits: 0

لاہور (خصوصی نامہ نگار) چیئرمین پاکستان علماء  کونسل و معاون خصوصی بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ برائے وزیراعظم پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے خطبہ جمعہ میں کہا ہے کہ پاکستان کے عرب اسلامی ممالک سے گذشتہ دس سالوں سے زیادہ بہترتعلقات ہیں۔ کرونا کی وباء کی وجہ سے متحدہ عرب امارات نے ویزے وقتی طور پر بند کیے ہیں۔ افواہیں پھیلانے سے پاکستان کے عرب اسلامی ممالک سے تعلقات غیر مستحکم نہیں ہو سکتے۔  کرونا ایک وبا ہے جس سے محفوظ رہنے کیلئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا توکل علی اللہ کے خلاف نہیں ہے۔ شریعت توکل کے ساتھ احتیاطی تدابیر پر عمل کا حکم دیتی ہے۔ گرینڈ جامع مسجد بحریہ میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عشق مصطفی کا تقاضا ہے کہ ہم پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ بچوں کو تعلیم دیں، بہنوں، بیٹیوں کو وراثت میں حق دیں۔ ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ نہ کریں۔ رسول اکرمؐ نے ہمیں سچ بولنے، غیبتوں سے بچنے اور حقوق العباد پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اجتماع کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کے عرب اسلامی ممالک سے گذشتہ دس سالوں سے زیادہ بہتر ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی کوششوں سے پاکستان اور عرب اسلامی ممالک کے درمیان غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کے تعلقات برادرانہ ہیں۔ کرونا کی وجہ سے متحدہ عرب امارات نے ویزا کے حوالہ سے پابندیاں لگائی ہیں جو مستقل نہیں ہیں اور ان شاء اللہ کرونا کی صورتحال کے ساتھ ہی بہتر ہو جائیں گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ علامہ خادم حسین رضوی ایک عالم دین تھے ان کی وفات سے دکھ ہوا۔ ان کے عقیدتمندوں اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔

@media(min-width: 768px){ .oembed_ltr{ border: 1px solid #e0e0e0!important; width: 90%; padding: 10px 10px 10px 5px!important; display: block; margin: 0 auto; } .oembed_image{ width: 100px; float:right; margin-left: 10px; } .oembed_image .top-center{ height:100px; } .oembed_title{ min-height: 100px; display: block; align-items: center; max-height: 100px; overflow: hidden; } .oembed_title a{ font-size: 20px; line-height: 52px; color:#222; overflow: hidden; padding-right: 10px; } } .top-center { background-position: center top !important; background-size: cover !important; } @media(max-width: 768px){ .oembed_ltr{ border: 1px solid #e0e0e0!important; display: block; align-items: center; width: 100%; padding: 10px 10px 10px 5px!important; } .oembed_image{ width: 90px;float:right;margin-left: 10px; } .oembed_image .top-center{ height: 84px; } .oembed_title{ align-items: center;max-height: 84px;overflow: hidden;min-height: 84px; } .oembed_title a{ font-size: 18px; line-height: 46px; color:#222; overflow: hidden; padding-right: 10px; } }

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں