11

نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، ہسپتال سے باہر ہی رہنا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں : اسلام آباد ہائیکورٹ

Hits: 7

اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اخترکیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے العزیزیہ ریفرنس اور دیگر میں نواز شریف کی حاضری سے استثنی اور نواز شریف کی سرنڈر کرنے کے عدالتی فیصلے پر نظرثانی کرنے کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ نواز شریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں ضمانت منسوخ کی جائے، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پہلے نواز شریف کی حاضری سے استثنی کی درخواست پر سماعت کرتے ہیں۔ خواجہ حارث کے دلائل سن لیتے ہیں کہ کیا سرنڈر کیے بغیر ملزم کی درخواست سنی جا سکتی ہے یا نہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ درخواست کیوں دائر کی گئی؟۔ ابھی تو ہم نے طے کرنا ہے کہ کیا نواز شریف کی درخواست سنی بھی جا سکتی ہے یا نہیں؟۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ یہ درخواست precautionary measure  کے طور پر دائر کی گئی۔ جسٹس عامرفاروق نے کہاکہ اگر نواز شریف کی درخواستیں قابل سماعت قرار دیں تو اس کو سنیں گے۔ پہلے نواز شریف کی حاضری سے استثنا کی درخواست پر سماعت کرتے ہیں۔ پریس میں ایک بات غلط رپورٹ ہوئی کہ اپیلوں پر سماعت کی بات کی گئی۔ ابھی ہم صرف نواز شریف کی متفرق درخواستوں پر سماعت کی بات کر رہے ہیں۔ جس پر نواز شریف کی درخواستوں پر ان کے وکیل خواجہ حارث نے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ نواز شریف کو دوسری عدالت نے اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ بغیر سنے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا گیا۔ خواجہ حارث نے پرویز مشرف کیس اور حیات بخش کیس کا حوالہ دیا جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ حیات بخش کیس کا سٹیٹس کیا ہے؟۔ خواجہ حارث نے کہاکہ حیات بخش سپریم کورٹ آف پاکستان کے 1981 کا کیس ہے، اس کیس میں سپریم کورٹ نے اشتہاری شخص کے لیے طریقہ کار وضع کیا ہے، جب ہم نے درخواست دی اس وقت نواز شریف کو نیب کورٹ نے اشتہاری قرار نہیں دیا تھا۔ پرویز مشرف کے وکیل کو پیش ہونے کی اجازت دی گئی، غیر معمولی حالات میں وکیل کو پیش ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے، سنگین غداری کیس میں بھی پرویز مشرف کے اشتہاری ہونے کے باوجود ٹرائل چلایا گیا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ کیا آپ کے دیئے گئے حوالے یہاں قابل قبول ہیں؟ یہاں تو ہم ایک کریمنل کیس سن رہے ہیں جس میں آپ استثنیٰ مانگ رہے ہیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کی عدم موجودگی پر سنگین غداری کیس کا ٹرائل چلایا اور فیصلہ دیا۔ ملزم کے پیش نہ ہونے کو جواز بنا کر ٹرائل کو روکا نہیں جا سکتا۔ عدالت ملزم کیلئے سرکاری وکیل مقرر کر کے ٹرائل آگے بڑھائے گی۔ عدالت نے کہاکہ اب وہ غیر معمولی حالات بتا دیں جو آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے کیس میں لاگو ہوتے ہیں۔ خواجہ حارث نے کہاکہ سپریم کورٹ نے مفرور ملزم کی درخواست کو مختلف وجوہات کی بنا پر سنا۔ نواز شریف کا کیس بھی اس سے ملتا جلتا ہے، نواز شریف نے بھی سزا کے بعد جیل میں قید کاٹی اور اپیل دائر کی۔ جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ آپ نے جس کیس کا حوالہ دیا اس میں تو ملزم جیل توڑ کر مفرور ہوا تھا۔ خواجہ حارث نے کہاکہ یہ تو زیادہ سنگین جرم تھا جس میں مفرور ملزم کی اپیل کا میرٹ پر فیصلہ کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ جہاں نیب لا خاموش ہو وہاں ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہوتا ہے۔ خواجہ حارث نے کہاکہ میں عدالت کو بتانا چاہتا ہوں کہ نواز شریف فی الحال عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے، جس پر عدالت نے کہاکہ آپ چاہتے ہیں کہ اپیلوں پر سماعت ملتوی کر دی جائے، یا پھر نواز شریف کی غیر موجودگی میں ان پر سماعت کر لی جائے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ جی، میری عدالت سے یہی استدعا ہے، جس پر عدالت نے کہاکہ اگر ہم نواز شریف کو مفرور بھی ڈیکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی۔ جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ عدالت کو صرف اتنا بتائیں کہ یہ عدالت اشتہاری کو سن سکتی ہے یا نہیں؟۔ خواجہ حارث نے کہاکہ سزائے موت کی قیدی کو بھی سنا جاسکتا ہے۔ میں عدالتی معاونت کے لیے حوالے دے رہا ہوں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ آپ نے جن کیسز کا حوالہ دیا وہ یہی کہتے ہیں کہ میرٹ پر چلنا ہے۔ اس عدالت نے میرٹ پر ہی چلنا ہے۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ قانون کہتا ہے کہ اشتہاری ہونے سے پہلے سرنڈر ہوناضروری ہے، نواز شریف کی جانب سے دائر درخواستیں ناقابل سماعت ہیں۔ عدالت نے کہاکہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت ختم ہو چکی ہے، یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ نواز شریف عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے، اس عدالت سے درخواست گزار کو سپیشل ریلیف دیا گیا، عدالت نے اپنے فیصلے میں نواز شریف کو سرنڈر ہونے کا کہا تھا۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کی طرف سے مشرف کیس کا حوالہ دینے پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ ملزم عدالت کے سامنے نہیں ہے تو ہم باقی اپیلیں نہیں سن سکتے؟۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ کیا ہم ملزم کے بغیر نیب اپیل سن سکتے ہیں؟۔ نیب پراسیکیوٹرنے کہاکہ ہم اشتہاری نہیں ہیں، ہمیں سنا جاسکتا  ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اگر ہم ملزم کو اشتہاری قرار دیتے ہیں تو کیا پھر بھی آپ ضمانت منسوخ کرنا چاہیں گے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ ملزم کو آٹھ مہینوں سے زیادہ ہوگئے ابھی تک  ہسپتال داخل نہیں ہے۔ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ اس موقع پر اپیل کو خارج کیا جائے۔ عدالت نے کہاکہ نیب کی اپیل کیسے سنی جائے گی؟۔ کیا ہم دوسری سائیڈ کو سنے بغیر اس پر فیصلہ کر سکتے ہیں؟ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ اگر نواز شریف پیش نہیں ہوتے تو نیب کی فلیگ شپ ریفرنس کی اپیل کیسے سنیں گے۔ کیا نواز شریف کی غیر موجودگی میں نیب کی انکے خلاف اپیل سنی جا سکتی ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب کی اپیل پر نواز شریف کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ ہم تو مفرور نہیں ہو رہے ہم یہیں موجود ہیں۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب کے جملے پر کمرہ عدالت میں قہقہہ لگ گیا۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اگر عدالت نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں مفرور قرار دیتی ہے تو نیب پھر بھی ایون فیلڈ میں انکی ضمانت منسوخی چاہتا ہے۔ ابھی ہم کسی اور اپیل پر بحث نہیں کریں گے۔ ابھی ہم صرف العزیزیہ ریفرنس پر ہی بحث کررہے ہیں۔ اس موقع پر خواجہ حارث نے اپیل پر سننے کی استدعا کی جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ نے اپنی اپیل میں سرنڈر کی حد تک استدعا کی ہے۔ ہمارا ایک ضمانتی آرڈر ختم ہوچکا، ہم ایک پروسس کے تحت چلیں گے، خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے صرف اس پر بات کرنے دیں کہ میں کیوں نہیں آسکتا، یہ بات درست ہے کہ نواز شریف کی ضمانت ختم ہو چکی ہے، اب صرف سوال یہ ہے کہ کیا وہ پاکستان واپس آنے کی پوزیشن میں ہیں یا نہیں؟۔ نواز شریف کی واپسی سے متعلق معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے؟۔ جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ اس کورٹ سے باہر جانے کی اجازت نہیں مانگی گئی، ضمانت ایک مخصوص مدت کے لیے تھی اور شاید یہ بات لاہور ہائی کورٹ کو نہیں بتائی گئی۔ خواجہ حارث نے کہاکہ نواز شریف کے خلاف کیسز لاہور میں بھی زیر سماعت ہیں۔ جسٹس عامرفاروق نے کہاکہ ملزم کو مقررہ وقت کی ضمانت دی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ نے ای سی ایل کے معاملے پر آپ کو سنا تھا، لاہور ہائیکورٹ نے ای سی ایل پر آرڈر دیا تھا اور آپ رپورٹ وہاں جمع کررہے ہیں۔ ہم نے ضمانت دی تھی اور ہمارے پاس یہاں کچھ نہیں۔ خواجہ حارث نے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ میں صرف ای سی ایل کا معاملہ نہیں مزید بھی کیسز ہیں۔ جسٹس عامرفاروق نے کہاکہ ای سی ایل کا معاملہ وہاں تھا مگر ضمانت کا معاملہ یہاں ہے۔ ہم نے مقررہ وقت کی ضمانت دی تھی، اور ایکسٹینشن پنجاب حکومت نے دینی تھی۔ خواجہ حارث نے کہاکہ نواز شریف لندن میں ہیں اور پاکستان واپس آنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ڈاکٹرز نے نواز شریف کو سفر سے منع کیا ہے۔ نواز شریف نے واضح طور پر اپنی درخواست میں کہا کہ وہ پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں، نواز شریف کو ڈاکٹرز نے سفر کی اجازت دی تو پہلی فلائیٹ سے واپس آ جائیں گے، ہم نے نواز شریف کے میڈیکل سرٹیفکیٹ دیئے ہیں، نیب اور وفاقی حکومت نے ان میڈیکل سرٹیفکیٹس کی تردید میں کچھ پیش نہیں کیا، ہمارے میڈیکل سرٹیفکیٹس کے مطابق نوازشریف وطن واپسی کے لئے فٹ نہیں، یہ ان فٹ ہونے والے سرٹیفکیٹس ناقابل تردید ہیں تو نواز شریف کیخلاف آرڈر کیسے جاری ہو سکتا ہے؟۔ جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ جو میڈیکل سرٹیفکیٹ ہیں وہ ایک کنسلٹنٹ کی رائے ہے جو کسی ہسپتال کی طرف سے نہیں، ابھی تک کسی ہسپتال نے نہیں کہا کہ ہم کوویڈ کی وجہ سے نواز شریف کو داخل کر کے علاج نہیں کر پا رہے، اگر ہسپتال سے باہر ہی رہنا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں؟ وہ پہلے بھی پاکستان میں ہسپتال داخل اور زیر علاج رہے ہیں، خواجہ حارث نے کہاکہ یہ شروع سے نواز شریف کی صحت اور علاج دیکھ رہے ہیں، جن ہسپتالوں سے ٹیسٹ ہوئے ان کا ذکر ان میڈیکل رپورٹس میں موجود ہے، جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ وفاقی حکومت تو ابھی تک یہاں کی میڈیکل رپورٹس پر شک کر رہی ہے، جس پر خواجہ حارث نے کہاکہ مگر برطانوی ڈاکٹرز کی رپورٹس پر شک کا اظہار نہیں کیا گیا،وفاقی حکومت نے ابھی تک ان رپورٹس کی تصدیق ہی نہیں کروائی، نواز شریف میڈیکل کنڈیشن کی وجہ سے لندن میں پھنس گئے ہیں، وہ حکومتی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ایئر ایمبولینس کے ذریعے بیرون ملک گئے۔ بعد ازاں عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے  سماعت 22 ستممبر تک ملتوی کر دی گئی۔

@media(min-width: 768px){ .oembed_ltr{ border: 1px solid #e0e0e0!important; width: 90%; padding: 10px 10px 10px 5px!important; display: block; margin: 0 auto; } .oembed_image{ width: 100px; float:right; margin-left: 10px; } .oembed_image .top-center{ height:100px; } .oembed_title{ min-height: 100px; display: block; align-items: center; max-height: 100px; overflow: hidden; } .oembed_title a{ font-size: 20px; line-height: 50px; color:#222; overflow: hidden; padding-right: 10px; } } .top-center { background-position: center top !important; background-size: cover !important; } @media(max-width: 768px){ .oembed_ltr{ border: 1px solid #e0e0e0!important; display: block; align-items: center; width: 100%; padding: 10px 10px 10px 5px!important; } .oembed_image{ width: 90px;float:right;margin-left: 10px; } .oembed_image .top-center{ height: 84px; } .oembed_title{ align-items: center;max-height: 84px;overflow: hidden;min-height: 84px; } .oembed_title a{ font-size: 18px; line-height: 42px; color:#222; overflow: hidden; padding-right: 10px; } }

لاہور (وقائع نگار خصوصی) نواز شریف کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹس لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروا دی گئیں۔ رپورٹس میں ڈاکٹروں نے بہترین علاج کے لیے نواز شریف کو لندن میں قیام کا مشورہ دے دیا۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹس لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دی گئیں، چار صفحات پر مشتمل  رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر نے نواز شریف کو بہترین علاج کے لیے لندن میں ہی قیام کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ نواز شریف روٹین کی چہل قدمی اور میڈیکل تھراپی جاری رکھیں۔  نواز شریف کے مطابق وہ پاکستان کی جیل میں تنہا قید تھے، ان کی حالت وہاں زیادہ خراب ہوئی۔ نواز شریف ہائی رسک کیٹیگری کے مریض ہیں اور ان کے دل کے علاج کے لیے تمام اقدامات  کی ضرورت ہے۔ کرونا  کی وجہ سے نواز شریف سمیت کئی مریضوں کے علاج میں خلل آیا ہے۔ ان کے دل کی شریانیں کھولنے کے لیے جلد ہی وقت مقرر کیا جائے گا اور نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کا علاج ان کے دل کی بند شریانیں کھولنے کے بعد کیا جائے گا۔

@media(min-width: 768px){ .oembed_ltr{ border: 1px solid #e0e0e0!important; width: 90%; padding: 10px 10px 10px 5px!important; display: block; margin: 0 auto; } .oembed_image{ width: 100px; float:right; margin-left: 10px; } .oembed_image .top-center{ height:100px; } .oembed_title{ min-height: 100px; display: block; align-items: center; max-height: 100px; overflow: hidden; } .oembed_title a{ font-size: 20px; line-height: 50px; color:#222; overflow: hidden; padding-right: 10px; } } .top-center { background-position: center top !important; background-size: cover !important; } @media(max-width: 768px){ .oembed_ltr{ border: 1px solid #e0e0e0!important; display: block; align-items: center; width: 100%; padding: 10px 10px 10px 5px!important; } .oembed_image{ width: 90px;float:right;margin-left: 10px; } .oembed_image .top-center{ height: 84px; } .oembed_title{ align-items: center;max-height: 84px;overflow: hidden;min-height: 84px; } .oembed_title a{ font-size: 18px; line-height: 42px; color:#222; overflow: hidden; padding-right: 10px; } }

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں