10

مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرکے نیا پاکستان بنائینگے: عمران

Hits: 1

اسلام آباد/ لاہور/ شیخوپورہ/ فیروز والہ (وقائع نگار خصوصی‘ نمائندہ خصوصی‘ نامہ نگار) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بڑے خواب دیکھنے والا ہی بڑے کام کرتا ہے۔ راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے ذریعے نیا پاکستان کا تصور نظر آ رہا ہے۔ ماضی کے حکمران ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل کر چلے گئے۔ قرضوں کی واپسی کیلئے سخت فیصلے کرنا پڑے جس سے مشکلات آ رہی ہیں۔ وہ منگل کو راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس منصوبہ میں تمام پیسہ نجی شعبہ سے آئے گا جبکہ حکومت صرف سہولتیں فراہم کرے گی۔ اوورسیز پاکستانیز اس منصوبہ میں سرمایہ کاری میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو منصوبہ کی جلد سے جلد تکمیل کیلئے ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نیا شہر بنانا آسان کام نہیں، مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ لاہور میں پانی کا مسئلہ شدت سے بڑھ رہا ہے تاہم نئے شہر میں جو جھیلیں بنیں گی اس سے لاہور شہر میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو گا۔ لاہور میں 40 فیصد کچی آبادیاں ہیں۔ لاہور شہر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور شہر کے تمام سیوریج کے پانی کو ٹریٹمنٹ کے بعد راوی میں گرایا جائے گا جس سے دریائے راوی کا پانی صاف ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نیا شہر مکمل منصوبہ کے تحت تعمیر کیا جا رہا ہے اور ہم اس کو گرین سٹی بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ غریبوں، یتیموں اور بے سہارا افراد کی کفالت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی عظیم قوم بنیں، ہماری حکومت نے پہلی بار لوگوں کو صحت کارڈ دیے جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ہر خاندان کو صحت کارڈ دیا جائے گا۔ غریب طبقہ کیلئے ہیلتھ کارڈ اور ہیلتھ انشورنس منصوبے شروع کئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کسی بھی حکومت نے بے گھر افراد کیلئے کچھ نہیں کیا تاہم ہماری حکومت نے پہلی بار ان کیلئے پناہ گاہیں تعمیر کیں، پناہ گاہوں کے معیار میں بہتری لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روٹی، کپڑا اور مکان صرف ایک نعرہ تھا، ہم نے عملی طور پر بے گھر اور بے سہارا افراد کیلئے احساس پروگرام شروع کیا۔ احساس پروگرام کے تحت تعلیمی وظائف بھی فراہم کئے جا رہے ہیں۔ احساس پروگرام کے تحت بچوں میں غذائی کمی کے خاتمہ کیلئے پروگرام شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے گھر افراد کیلئے ہم نے گھروں کی تعمیر شروع کی ہے اور انہیں کم شرح سود پر قرضے فراہم کریں گے اور غریب سے غریب تر افراد بھی اپنا خرید سکیں گے۔ اس کے علاوہ دیہات میں خواتین کیلئے روزگار سکیم کا بھی اجراء کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ لوگ مشکلات کو نئے پاکستان سے جوڑ رہے ہیں۔ ماضی کے حکمران ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل کر چلے گئے۔ قرضوں کی واپسی کیلئے سخت فیصلے کرنا پڑے جس سے مشکلات آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا کے خلاف ہماری حکمت عملی کامیاب رہی۔ سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی اپناتے ہوئے غریب طبقہ کا خیال رکھا۔ کرونا کی وجہ سے دنیا میں سب سے زیادہ بھارتی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کے حکمران ملک کو مقروض کرکے چلے گئے۔ ان کی چھوٹی سوچ تھی۔ دولت  ان کی ترجیح‘ شوگر ملیں اور لندن فلیٹ تھے۔ تاکہ اپنے بچوں کے کاروبار کو تو سیع دی جا سکے۔  نیا پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کرونا اور سیلاب میں ایک شخص کو کیمرا پکڑا کر متاثرہ افراد سے بیان لیا جاتا تھا کہ کہاں ہے نیا پاکستان۔ مشکل حالات میں حوصلہ ہارنے کی بجائے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کر کے ہی ہم نیا پاکستان بنائیں  گے۔ راوی ریور منصوبہ  سے نئے پاکستان کا تصور نظر آئے گا۔ اس منصوبے میں کم آمدنی والے لوگوں کو سستے گھر بنا کر دیں گے۔  عمران خان نے کہا کہ کرونا کے مو قع پر کہا گیا ملک میں لاک ڈائون کر دیا جائے۔ میں ان لوگوں سے پوچھتا رہا کہ لاک ڈائون میںدیہاڑی دار، کچی آبادیوں اور غریب مزدور کا کیا بنے گا۔ نریندر مودی نے ہندوستان میں لاک ڈائون کیا تو وہاں غریب کا برا حال ہوا۔ غریب کی بد دعا سے ہندوستان میں اللہ کا عذاب آیا اور دنیا میں سب سے زیادہ جس ملک کی اکانومی تباہ ہوئی وہ بھارت کی تھی۔  جی ٹی روڈ راوی کے پرانے پل پر اکثر لوگ فٹ پاتھوں پر گھر نہ ہونے کے باعث سو جاتے تھے۔ جہاں بسوں ٹرکوں کے مٹی اور دھوئیں کی وجہ سے بیمار ہو جاتے تھے۔ ہم نے ان کیلئے پناہ گاہیں بنائی ہیں جس میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ سیاسی تھا جو اپنی موت آپ مر گیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں غریب عوام کیلئے سب سے بڑ ا احساس پروگرام شروع کیاگیا ہے جس میں 200ارب روپے رکھے گئے  اور غریب کیلئے بلا سود قرضے، تعلیمی سکالر شپ، نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے پروگرام کے ساتھ ساتھ دیہی خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے سستے قرضے دیے جائیں گے جو وہاں مرغیاں، بھینس وغیرہ پال کر روزگار کما سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ تشویشناک بات ہے کہ لاہور اور گردونواح میں زیر زمین پانی کی سطح 800میٹر سے کم ہو چکی ہے اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے جن کو بہتر کرنے کیلئے راوی ریور منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کو ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔ منصوبوں میں رکاوٹیں تو آتی ہیں مگر پی ایم آفس اور سی ایم آفس رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے اپنے اختیارات استعمال کریں  گے۔   لاہور کے سیوریج کا گندا پانی کو ٹریٹمنٹ کرکے راوی میں ڈالا جا ئے گا تاکہ یہاں بھی مچھلیاں پیدا ہوں۔ لاہور کی 40فیصد کچی آبادیوں کو سہولیات حاصل نہیں۔  ایک مائنڈ سیٹ نے صرف ایلیٹ کلاس کیلئے منصوبے بنائے۔ سیاست میں آکر دولت بنانے والے کامیاب نہیں ہوتے۔ وہ غریب عوام کو مزید غریب کرکے لندن میں محل ہیں۔ یہ چھوٹی سوچ والے لوگ ہیں۔ انہوں نے ملائیشیا کے رہنما مہاتیر محمد کو بڑی سوچ والی شخصیت قرار دیا۔ عمران خان نے کہا کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ پر سابقہ حکومتوں نے اس لئے کام نہیں کیا کیونکہ ان کے نزدیک ملک نہیں بلکہ اپنا مالی فائدہ اہم تھا اور وہ بڑا کام نہیں کر سکتے۔ عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ لوگ نئے پاکستان کو مشکلات سے جوڑ رہے ہیں جب بھی مشکل وقت ہوتا ہے کیمرہ مین مائیک پکڑ کر لوگوں سے پوچھتا ہے کدھر ہے نیا پاکستان؟۔ ملک میں واقعی مہنگائی ہوئی ہے اور برے حالات ہیں۔ جب مشکل حالات میں ایسے سوال کریں گے تو لوگ برا بھلا تو کہیں گے۔ چین نے ستر کروڑ لوگوں کو پہلے غربت سے نکالا آج پوری دنیا اس کی ترقی سے خوفزدہ ہے۔  لاہور کا سارا سیوریج دریائے راوی میں آتا ہے۔ راوی کے پانی میں آرسینک ہے جس سے ہیپاٹائٹس کا مرض بڑھ رہا ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا اور وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔  وزیراعظم نے پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد پودا  بھی لگایا۔ علاوہ ازیں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سانحہ موٹر وے پر گفتگو کی گئی اور وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایسے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ کابینہ ارکان نے زیادتی کے ملزمان کو سخت اور فوری سزائیں دینے پر اتفاق کیا اور یہ بھی کہا کہ تمام جماعتوں کو مل کر قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم  عمران خان  نے  موٹر وے پر ہونے والے  کیس کو منطقی انجام  اور مجرموں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا تک پہنچانے کے  عزم کا اظہار کیا  ہے۔ انہوں نے یہ بات  لاہور میں صوبہ پنجاب میں امن وامان، اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور ان کی قیمتوں اور فلاحی منصوبوں کے حوالے سے اعلی سطح کے جلاس  سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو ان کی زیر صدارت   منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء  شفقت محمود، فیصل واوڈا، مشیر وزیر اعظم شہزاد اکبر، سینیٹر فیصل جاوید،  وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، صوبائی وزرا محمد بشارت راجہ، فیاض الحسن چوہان، مخدوم ہاشم جواں بخت، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس پنجاب اور سینیئر افسران نے شرکت کی۔  وزیراعظم خاتون زیادتی کیس میں پیشرفت پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس  میں ملک بھر میں ایک ایمر جنسی نمبر نافذ کرنے اور جرائم کا سنٹرل ڈیٹابیس قائم کرنے پر غور کیا گیا۔ وزیر اعظم نے  بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے نشہ آور مصنوعات فروخت کرنے والے عناصر اور قبضہ مافیا کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا حکم دیا۔ وزیر اعظم نے صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اشیائے ضروریہ خصوصا گندم کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعظم کو پناہ گاہوں اور لنگر خانوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وزیر اعظم نے خصوصی تاکید کی کہ  پناہ گاہوں اور لنگر خانوں میں آنے والے افراد کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔ دیہاڑی دار طبقے پر خاص توجہ دی جائے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ضرورت  کے پیش نظر مزید پناہ گاہوں اور لنگر خانوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا  کہ انصاف، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی اور بنیادی سطح پر عوام کو بااختیار بنانا اور ان کو نمائندگی دینے سے ہی بہتر طرز حکومت اور عوامی خدمت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے واضح کیاکہ فلاحی ریاست کی طرف سفر ہی قوم کی خوشحالی کا سفر ہے۔ وزیراعظم عمران خان سے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اور وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے بھی لاہور میں ملاقات کی۔ 

@media(min-width: 768px){ .oembed_ltr{ border: 1px solid #e0e0e0!important; width: 90%; padding: 10px 10px 10px 5px!important; display: block; margin: 0 auto; } .oembed_image{ width: 100px; float:right; margin-left: 10px; } .oembed_image .top-center{ height:100px; } .oembed_title{ min-height: 100px; display: block; align-items: center; max-height: 100px; overflow: hidden; } .oembed_title a{ font-size: 20px; line-height: 50px; color:#222; overflow: hidden; padding-right: 10px; } } .top-center { background-position: center top !important; background-size: cover !important; } @media(max-width: 768px){ .oembed_ltr{ border: 1px solid #e0e0e0!important; display: block; align-items: center; width: 100%; padding: 10px 10px 10px 5px!important; } .oembed_image{ width: 90px;float:right;margin-left: 10px; } .oembed_image .top-center{ height: 84px; } .oembed_title{ align-items: center;max-height: 84px;overflow: hidden;min-height: 84px; } .oembed_title a{ font-size: 18px; line-height: 42px; color:#222; overflow: hidden; padding-right: 10px; } }

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں