9

افغانستان، بم دھماکے میں 5افغان فوجی ہلاک

Hits: 0

فیض آباد/ قلعہ نو(شِنہوا)افغانستان میں  سڑک کنارے نصب بم دھماکے سے 5افغان فوجی ہلاک ہوگئے جبکہ  شمالی صوبہ بدخشاں کے ضلع جرم پر طالبان کا حملہ پسپا کردیا گیا جس میں 17 عسکریت پسند مارے گئے ۔ پیر کو فوج کی طرف سے  جاری ایک بیان میںکہا گیا ہے کہ  طالبان عسکریت پسندوں نے پیر کے روز علی الصبح ضلع جرم پر قبضہ کرنے کیلئے مختلف سمتوں سے بڑے پیمانے پر حملے کا آغاز کیا لیکن ان کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی طیاروں کی مدد سے کی جانیوالی جوابی کارروائی میں مجموعی طور پر 17 عسکریت پسند ہلاک اور 1 درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔سیکورٹی فورسز یا عام شہریوں کے ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں معلومات فراہم کیے بغیر بیان میں کہا گیا ہے کہ امن و سلامتی کو مستحکم بنانے کیلئے فوج جرم اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں باغیوں کا پیچھا جاری رکھے گی۔طالبان نے ابھی تک اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب افغانستان کے  مغربی صوبہ بادغیس کے ضلع ابکماری میں 5 افغان فوجی اس وقت ہلاک ہوگئے جب ان کی فوجی گاڑی سڑک کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی، یہ بات صوبائی کونسل کے رکن محمد ناصر نظاری نے پیر کے روز بتائی۔عہدیدار نے بتایا کہ شدت پسندوں کی جانب سے شورش زدہ ضلع ابکماری کے علاقے دہستان  میں سڑک کے کنارے بارودی سرنگ نصب کی گئی تھی اور ایک فوجی گاڑی اتوار کی سہ پہر اس سے ٹکرا گئی جس کے باعث گاڑی میں سوار 5 فوجی ہلاک ہوگئے۔صوبہ بادغیس کے نائب گورنر فیض محمد میرزا زادہ  نے واقع کی تصدیق کی ہے تاہم تفصیلات نہیں بتائیں۔ اس ملک میں جنگ کے خاتمے کیلئے جب سے ہفتے کے روز دوحہ میں مذاکرات کا آغاز ہوا تب سے مقامی حکام کے مطابق  شورش زدہ بادغیس صوبہ میں 31 جنگجو مارے گئے ہیں جن میں دہشت پسند اور سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔صوبہ بادغیس جس کا دارالحکومت قلعہ نو ہے میں طالبان جنگجو سرگرم ہیں تاہم انہوں نے ان واقعات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

@media(min-width: 768px){ .oembed_ltr{ border: 1px solid #e0e0e0!important; width: 90%; padding: 10px 10px 10px 5px!important; display: block; margin: 0 auto; } .oembed_image{ width: 100px; float:right; margin-left: 10px; } .oembed_image .top-center{ height:100px; } .oembed_title{ min-height: 100px; display: block; align-items: center; max-height: 100px; overflow: hidden; } .oembed_title a{ font-size: 20px; line-height: 50px; color:#222; overflow: hidden; padding-right: 10px; } } .top-center { background-position: center top !important; background-size: cover !important; } @media(max-width: 768px){ .oembed_ltr{ border: 1px solid #e0e0e0!important; display: block; align-items: center; width: 100%; padding: 10px 10px 10px 5px!important; } .oembed_image{ width: 90px;float:right;margin-left: 10px; } .oembed_image .top-center{ height: 84px; } .oembed_title{ align-items: center;max-height: 84px;overflow: hidden;min-height: 84px; } .oembed_title a{ font-size: 18px; line-height: 42px; color:#222; overflow: hidden; padding-right: 10px; } }

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں