9

غیرتربیت یافتہ افرادی قوت پاکستانی معاشی ترقی میں رکاوٹ

Hits: 0

پاکستان میں افرادی قوت کی پیداواری سطح خطے میں سب سے کم ہے،اسٹیٹ بینک۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں افرادی قوت کی پیداواری سطح خطے میں سب سے کم ہے،اسٹیٹ بینک۔ فوٹو: فائل

کراچی: پاکستانی معیشت ہمیشہ سے ایک ایسے دوراہے پر رہی ہے کہ جہاں اس نے درمیانی مدت کے معاشی اہداف تو حاصل کیے ہیں تاہم طویل مدت کی بنیاد پر مستحکم ترقی حاصل نہیں کرسکی اور اس کی وجوہات میں تعلیم یافتہ اور ہنرمند افرادی قوت کی کمی کے علاوہ سرمایہ کاری کا فقدان بھی شامل ہے۔

افرادی قوت کے غیر تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف صنعتی اور زرعی پیداوار میں کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے کاروبار کے فروغ میں رکاوٹ آتی ہے بلکہ مناسب تربیت نہ ہونے کی وجہ سے انھیں معاوضے اور اجرتوں میں بھی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ملکی معیشت کی تیسری سہ ماہی کی صورت حال پر جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں افرادی قوت کی خراب صورت حال ترقی اور افزائش کی بہتر شرح کے حصول میں ایک رکاوٹ ہے۔

سرمایہ کاری میں اضافہ اور برآمدگی صنعتوں کی ترقی کسی بھی ملک کی مستحکم اور پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہوتے ہیں اسی طرح آزاد تجارتی پالیسی، برآمدات میں تنوع، مقامی وسائل پر کم سے کم انحصار اور پیداواری عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا پاییدار ترقی کے لیے ناگزیر ہیں تاہم اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پیداواری عمل میں افرادی قوت کی دگرگوں صورحال ایک ایسی بنیادی وجہ ہے جس نے پاکستان کو ترقی سے روک رکھا رکھا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تعلیم اور تربیت کا فقدان تو ایک طرف رہا، موجودہ افرادی قوت میں اس سطح کی صلاحیت بھی نہیں کہ وہ معاشی سرگرمیوں میں موثر طور پر حصہ لے سکیں،پاکستان میں افرادی قوت کی پیداواری سطح خطے میں سب سے کم ہے جو کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ڈالر کی قدر کے لحاظ سے محض 32 فیصد پر ہے جبکہ بنگلادیش میں 109 فیصد، سری لنکا میں 116 فیسد، ویت نام میں 137 فیسد، بھارت میں 177 فیصد اور چین میں 388 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس کی بنیادی وجہ حکومتوں کی جانب سے سالانہ بجٹ میں تعلیم کے لیے رکھا جانے والا کم بجٹ ہے۔ اس وقت حکومت کی جانب سے مجموعی قومی پیداوار میں محض 2 فیصد تعلیم کے لیے مختص کیا گیا ہے جبکہ اس کے برعکس پائیدار ترقی کے اہداف کے مطابق اسے کم سے کم 4 فیصد ہونا چاہیے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں موجود تکنیکی اور ہنر سکھانے کے اداروں میں کمی ہے جبکہ وہاں دیگر افراد کو سکھانے کے لیے ماہرین کی تعداد نہ صرف کم ہے بلکہ مقامی، خطے اور عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق وہ دیگر مزدوروں کو تربیت دینے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں