23

پشاورہائیکورٹ کا ریکارڈچوری کرنیوالے چوکیدار کی درخواست ضمانت منظور۔

Hits: 1

ایبٹ آباد: پشاور ہائیکورٹ سرکٹ بنچ میں محافظ خانہ سے فائلیں چوری کیس گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی۔پولیس اوردیگرذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق پشاورہائیکورٹ سرکٹ بینچ ایبٹ آباد کے سال 2010ء کے تمام مقدمات کاریکارڈ سیشن جج کی عدالتوں میں قائم محافظ خانہ میں رکھا گیاتھا۔ 29اگست 2019ء کو محافظ خانہ کے اسسٹنٹ انچارج نعیم خان کو معلوم ہواکہ پشاور ہائیکورٹ کے کیسوں کا تمام ریکارڈ کسی نے ریکارڈ روم کی چھت کے ذریعے چوری کرلیا ہے۔ جس کی اطلاع ایبٹ آبادکے تھانہ سٹی میں دی گئی۔ تھانہ سٹی میں محافظ خانہ کے اسسٹنٹ انچارج نعیم خان کی مدعیت میں علت نمبر: 639جرم 380,457پی پی سی کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ذرائع کے مطابق چوری کئے جانیوالے ریکارڈ میں 241 کیسوں اور اپیلوں کا ریکارڈ تھا۔ مختلف 144رٹ پٹیشنوں میں سے 57 رٹ پٹیشنوں کا ریکارڈ چوری کیاگیاہے۔ آر ایف اے/ایف اے او/ایف اے بی کے 56 بنڈلوں میں سے 25بنڈل چوری کئے گئے ہیں۔ کریمنل اپیلوں کے 98بنڈلوں میں سے 58بنڈل چوری کئے گئے ہیں۔ سول ریوژن کے 150بنڈلوں میں سے 101بنڈل چوری کئے گئے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق تین ہزار مقدمات کی فائلیں چوری کی گئیں۔ سابق ڈی پی او عباس مجید مروت کی جانب سے کیس کی تفتیش کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ جبکہ حساس اداروں نے بھی ریکارڈ چوری کرنیوالے ملزم کی نشاندہی کی۔ جوکہ عدالت کا چوکیدارفرمان ولد جاوید نکلا۔ جسے پولیس نے گرفتار کرکے تفتیش کی تو اس نے دوران تفتیش چوری کرکے ایک کباڑی پر فروخت کئے جانیوالے مقدمات کے ریکارڈ کی نشاندہی کی۔ پولیس نے کباڑخانے پر چھاپہ مار کر تین ہزار مقدمات کا ریکارڈ برآمد کرلیا۔ ذرائع کے مطابق چوکیدارفرمان کی درخواست ضمانت سیشن کورٹ سے مسترد کر دی تھی۔جس کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ ذرائع کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس شکیل پر مشتمل سنگل بینچ نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم فرمان کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم جاری کردیا۔

#wpdevar_comment_3 span,#wpdevar_comment_3 iframe{width:100% !important;}.fb_iframe_widget span{width:460px !important;} .fb_iframe_widget iframe {margin: 0 !important;} .fb_edge_comment_widget { display: none !important; }

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں