346

چالیس لاکھ کا کمرہ آٹھ لاکھ میں….. تحریر بختیار انجم

Hits: 26

جب سے کمروں, لیٹرینوں اور چاردیواری کی تعمیر, سکول میں بجلی اور سولر سسٹم کی تنصیب وغیرہ کو بھی سکولز سربراہان اور اساتذہ کے فرائض منصبی میں شامل کیا گیا ہے. حکومت اور مخصوص ذھن کے حامل اساتذہ بڑے فخر سے دعوی کرتے نظر آتے ہیں کہ مختلف تعمیراتی محکمے جو کام کروڑوں میں مکمل کرتے ہیں اساتذہ ” جادو کی چھڑی” سے وہی کام چند لاکھ میں مکمل کر لیتے ہیں. یہ دعوی کرنے والے اساتذہ میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو فطری طور پر ٹھیکیدار پیدا ہوۓ تھے لیکن غلطی سے استاد بن بیٹھے. یہ لوگ اپنے سکول کے لئے فنڈز حاصل کرنے میں “ماہر” ہوتے ہیں سرکار ان کی “حسن کارکردگی” کو دیکھ کر انھیں ایک ہی مد میں تین تین بار پیسے فراہم کرتی ہے اور یہ اپنی “پیشہ ورانہ مہارت”کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوۓ پہلے سے تعمیر شدہ چاردیواری کی نوک پلک سنوار کر, پہلے سے موجود واٹر سپلائ سکیم اور گروپ لیٹرین پر نیا بورڈ لگا کر یا غیر معیاری کام کر کے لاکھوں روپے ہڑپ کر لیتے ہیں. ان کی انکوائری ہوتی ہے تو انکوائری رپورٹ ان کے حق میں لکھی جاتی ہے. اور اگر کوئ سر پھرا آفیسر ان کے خلاف لکھتا ہے تو رپورٹ ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتی ہے.
دوسری طرف سکول سربراہان اور اساتذہ کی اکثریت کو ٹھیکیدار بننے میں کوئ دلچسپی نہیں. بلکہ وہ سیمنٹ, ریت, بجری, مستری, مزدور کے چکروں میں پھنس کر اور ڈیپارٹمنٹ اور “تھرڈ پارٹیوں” کی پے در پے انکوائریوں اور فزیکل ویریفیکیشن سے عاجز آکر “الامان الامان ” کی صدائیں بلند کر رہے ہیں. یہ وہ لوگ ہیں کہ پوری دیانتداری سے کام کر کے بھی سارا نزلہ ان کے سر پر گرتا ہے. اگر سکول کا کوئ کام چور استاد یا گاؤں کا کوئ بلیک میلر “شریف” یا صحافی ان کے خلاف شکایت لگا لیتا ہے. تو انکوائریوں کی لائن لگ جاتی ہے. ہر انکوائری کے دن سارا گاؤں سکول میں جمع ہوتا ہے اور بےچارا استاد ایک مجرم کی طرح اپنی صفائیاں پیش کرتا رہتا ہے
بعض سکولوں خصوصاً پرائمری اور گرلز سکولز میں مقامی با اثر افراد,یا سکول کے چوکیدار, پی ٹی سی چئرمین بن کر پیسے ہتھیا لیتے ہیں. اور ڈیپارٹمنٹ کے قہروغضب کا نشانہ استاد بنتا ہے. ڈیپارٹمنٹ کے کرپٹ اہلکار بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں.
مذکورہ بالا پریشانیوں کی وجہ سے سکولز سربراہان اور اساتذہ کی توجہ تعلیمی سرگرمیوں سے پٹ چکی ہے اور اداروں کا تعلیمی معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے دیانت دار اساتذہ اور سکولز سربراہان کی عزت خاک میں مل رہی ہے. ضرورت ہے کہ اس پالیسی پر نظرثانی کی جاے اور “جس کا کام اسی کو ساجھے” کے مصداق سکولوں میں تعمیراتی کام متعلقہ محکموں سے کرواۓ جائیں

تحریر: بختیار انجم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں