1,434

الیکشن 2018. تاج محمد خان ترند کی جانب سے عطا محمد دیشانی پر اعتراضات کی تفصیل

Hits: 1651

تاج محمد خان ترند نے عطا محمد دیشانی کے اعتراض کے جواب میں اُنکے خلاف بہت سے اعتراضات ریٹرننگ آفیسر کے پاس جمع کیے ہیں۔ جسکی کاپی تاج محمد خان ترند نے اباسین نیوز کو بھیجی ہے اور جس کی تفصیل درج ذیل جملوں میں کیا جا رہا ہے۔

اُمیدوار عطا محمد دیشانی نے کاغذات نامزدگی میں اپنے کسی کاروبار کا ذکر نہیں کیا ہے۔

اُمیدوار عطا محمد دیشانی نے کاغذات نامزدگی میں نقد رقم پانچ لاکھ روپے بتایا ہے جسکا کوئی ذکر نہ ہے کہ یہ رقم کہاں سے آیا ہے اسکے پاس۔

اُمیدوار عطا محمد دیشانی کا کوئی کاروبار نہ ہے نہ کوئی ملازمت ہے اور نہ ہی یہ رقم کسی نے اسکو گفٹ کی ہے۔ لہذا یہ رقم مشکوک ہے۔

اُمیدوار عطا محمد دیشانی نے اپنے اثاثہ جات میں صرف اٹھارہ کنال اراضی ظاہر کی ہے جو کہ اُسکے والد کی جائیداد ہے۔ جس میں اُمیدوار کی حصہ داری اور قیمت ظاہر نہیں کی گئی ہے جو کہ مروجہ قانون کے اُصولوں کے خلاف ہے۔ اثاثہ جات کی قیمت نامزدگی فارم میں درج کرنا ضروری ہوتا ہے۔  ایسا نہ کر کے تاج محمد خان ترند نے عطا محمد دیشانی کی کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کی درخواست کی ہے۔

اُمیدوار عطا محمد دیشانی نے اپنے اثاثہ جات میں اپنا ذاتی مکان  جو کہ دو منزلہ ہے اور جسکی قیمت اندازے کے مطابق دو کروڑ روپے سے کم نہ ہیں کو ظاہر نہیں کیا ہے۔ اور اسی مکان میں اُمیدوار عرصہ دراز سے اپنے اہل و عیال سمیت رہائش پذیر ہے۔  اُمیدوار عطا محمد دیشانی کا یہ فعل خلاف قانون ہے لہذا نامزدگی فارم مسترد کئے جائیں۔

اُمیدوار عطا محمد دیشانی اہل سنت ولجماعت پارٹی کے صوبائی صدر ہے جبکہ کاغذات نامزدگی میں اس بات کا کوئی ذکر نہ ہے۔ اس بابت ثبوت درخواست کے ساتھ لف ہیں۔

اُمیدوار عطا محمد دیشانی نے اپنے نامزدگی فارم میں اپنی تعلیمی قابلیت ایم۔اے درج کی ہے جبکہ سیاسی پمفلٹ اور دیگر کاغذات میں اپنے نام کے ساتھ علامہ عطا محمد لکھتا ہے۔ چونکہ مذکور کے پاس کوئی پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری نہ ہے اور نہ ہی کسی یونیورسٹی یا اسلامی درسگاہ نے مذکور کو کوئی اعزازی ڈگری دی ہے۔ لہذا اُمیدوار مذکور کا اس طرح علامہ بننا جعل سازی اور سازش کا نتیجہ ہے جو کہ آرٹیکل باسٹھ تھریسٹھ کے مترادف ہے۔  ان وجوہات کی بنا پر اُمیدوار مذکور  دروغ گوئی کا مترادف ہے اور مذکور صادق اور امین کہنے کا قابل نہیں ہے۔ لہذا کاغذات نامزدگی مسترد کئے جائیں۔ اس بابت سارے ثبوت درخواست کے ساتھ لف ہیں۔

اُمیدوار عطا محمد دیشانی نے نامزدگی فارم میں  گھر کے سامان، فرنیچر، زیوارت وغیرہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔  اور اپنے فارم میں صرف پانچ لاکھ روپے کا ذکر کیا ہے۔  دومنزلہ مکان میں کوئی فرنیچر نہ ہے اور نہ کوئی چارپائی ہے اور نہ ہی شادی کے وقت کوئی ذیوارت کا ذکر کیا ہے اور ان وجوہات کے بنا پر اُمیدوار مذکور نے الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی کی ہے۔ لہذا کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں۔

اُمیدوار عطا محمد دیشانی مضاربت کا کاروبار کرتا ہے اور کروڑوں روپے کا مقروض ہے۔  اور ماہوار لوگوں کو لاکھوں روپے کا منافعہ دیتا ہے۔ لیکن اُمیدوار نے نامزدگی فارم میں امر کو مخفی رکھا ہے۔

اُمیدوار عطا محمد دیشانی کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ سے تعلق رکھتا تھا اور اب اہل سنت والجماعت کا صوبائی صدر بنا گیا ہے۔  جسکے ثبوت درخواست کے ساتھ لف ہیں۔ لیکن اُمیدوار نے اس بات کا بھی اپنے نامزدگی فارم میں ذکر نہیں کیا ہے۔  اور کالعدم تنظیم کا صدر الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا ہے۔

تاج محمد خان ترند نے ان تمام مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر  ریٹرننگ آفیسر برائے حلقہ پی۔کے 29 کو درخواست کی ہے اُمیدوار عطا محمد دیشانی کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جائیں کیونکہ اُمیدوار مذکور الیکشن لڑنے کا قابل نہیں ہے۔

اباسین نیوز کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

مزید خبریں :  /اہم خبریں /قومی /بین الاقوامی/علاقائی /کھیل /کالمز/شوبز /کاروبار/صحت/ویڈیو/ٹیکنالوجی/پاکستانی اخبارات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں